ایک شادی شدہ آدمی کو طلاق کے مسائل سیکھنا ضروری ہیں یا نہیں؟

سوال: ایک شادی شدہ آدمی کو طلاق کے مسائل سیکھنا ضروری ہیں یا نہیں؟

جواب: ہر شخص کو ان مسائل کا سیکھنا ضروری ہے جس کی اسے موجودہ وقت میں ضرورت اور جن چیزوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے، مثلاََ نمازی کے لیے نماز کے فرائض ، واجبات اور نماز کو فاسد یا ناقص کرنے والی چیزوں کا سیکھنا ضروری ہے، یونہی روزہ رکھنے والے کے لیے روزہ کو توڑنے والی چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ تجارت کرنے والے کے لیے خرید و فروخت کے مسائل جاننا ضروری ہے۔ عورتوں کے لیے حیض و نفاس اور شوہر کے حقوق کے متعلق مسائل جاننا ضروری ہے۔ اور شوہر کے لیے بیوی کے حقوق اور مخصوص ایام میں اس کے قریب جانے کے مسائل سیکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح طلاق کے مسائل ہیں کہ جب تک طلاق کا موقع نہیں آیا ، تب تک طلاق کے مسائل سیکھنا ضروری  نہیں، لیکن جب طلاق کا ارادہ ہو اس وقت ضروری ہے کہ طلاق کے مسائل سیکھے کہ طلاق کس طرح دے۔ یہ پتہ ہونا چاہیے کہ کن حالات میں طلاق دینا جائز ہے۔ یہ بھی پتہ ہو کہ کتنی طلاقیں دینا جائز ہیں۔ اور دوسرے طلاق کے مسائل کا بھی پتہ ہونا چاہیے۔ اس لیے جو شخص بھی طلاق کا ارادہ کرے تو اس وقت اسے طلاق کے مسائل جاننا ضروری ہیں۔اور اس سے پہلے مستحب ہیں کہ موجودہ حاجت سے زائد مسائل کا سیکھنا مستحب ہے۔(خلاصہ ازفتاویٰ رضویہ قدیم جلددہم/10 ص

منگنی کے بعد شادی میں رکاوٹ اور رشتہ داروں کا حسد

استخارہ کے بارے میں ضروری معلومات

استخارہ  کی انسانی زندگی میں کیا عمل دخل ہے اس کے بارے میں مکمل معلومات اس آرٹیکل میں ملاحضہ فرمائیں

پسند کی شادی کے بارے میں اسلام سے راہنمائی

سوال: کیا بلا وجہ عورت کو طلاق دینا جائز ہے؟

جواب: بلا ضرورت  عورت کو طلاق دینا جائز نہیں ، آج کل معمولی معمولی باتوں پر عورت کو طلاق دے دیتے ہیں اور بعد میں علمائے کرام کے پاس جا کر روتے ہیں ۔ پہلے ہی سوچ سمجھ کر ایسا نازک فیصلہ کرنا چاہیے ۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سب سے ناپسندیدہ حلال کام طلاق دینا ہے۔(مشکوٰۃص 283) امام اہلسنت ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے (فتاویٰ رضویہ جلد 5 کتاب الطلاق کے صفہ نمبر 1 پر) اور صدر الشریعۃ مولاناامجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ نے (فتاویٰ امجدیہ، 2/164) پر بلا ضرورت طلاق دینے کو ممنوع و گناہ قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں